گماں سے بد گماں کوئی نہیں ہے
مکمل رائیگاں کوئی نہیں ہے
کھڑے ہو درمیاں اور کہہ رہے ہو
زمیں کا درمیاں کوئی نہیں ہے
ہُوا ہے چُپ کے روزے کا یہ نقصاں
نمازیں ہیں، اذاں کوئی نہیں ہے
کہانی مر نہ جائے موت اپنی
اداکاروں میں جاں کوئی نہیں ہے
یہ سب جنگل مِرے چھانے ہوئے ہیں
گھروں میں بھی اماں کوئی نہیں ہے
ہوا ہو، آگ ہو، مٹی کہ پانی
کسی کا ترجماں کوئی نہیں ہے
تُو ماضی حال مستقبل ہے میرا
مجھے تُو ہے جہاں، کوئی نہیں ہے
پرندوں کو یقیں کیسے دِلاؤں
خلا میں آشیاں کوئی نہیں ہے
ہوس کی شعبدہ بازی ہے راجا
ضرورت کا بیاں کوئی نہیں ہے
اویس راجا
No comments:
Post a Comment