Friday, 2 June 2023

گماں سے بد گماں کوئی نہیں ہے

 گماں سے بد گماں کوئی نہیں ہے

مکمل رائیگاں کوئی نہیں ہے

کھڑے ہو درمیاں اور کہہ رہے ہو 

زمیں کا درمیاں کوئی نہیں ہے 

ہُوا ہے چُپ کے روزے کا یہ نقصاں

نمازیں ہیں، اذاں کوئی نہیں ہے

کہانی مر نہ جائے موت اپنی 

اداکاروں میں جاں کوئی نہیں ہے

یہ سب جنگل مِرے چھانے ہوئے ہیں

گھروں میں بھی اماں کوئی نہیں ہے

‏‎ہوا ہو، آگ ہو، مٹی کہ پانی 

‏‎کسی کا ترجماں کوئی نہیں ہے

تُو ماضی حال مستقبل ہے میرا

مجھے تُو ہے جہاں، کوئی نہیں ہے

پرندوں کو یقیں کیسے دِلاؤں

خلا میں آشیاں کوئی نہیں ہے

ہوس کی شعبدہ بازی ہے راجا

ضرورت کا بیاں کوئی نہیں ہے


اویس راجا

No comments:

Post a Comment