Thursday, 11 May 2023

اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے

 اپنے غم کا مجھے کہاں غم ہے

جانتا ہوں یہ وقتی موسم ہے

پیار کی کونپلیں بھی پھوٹیں گی 

دل کی دھرتی اگر ذرا نم ہے

چاندنی میرے گھر نہیں آتی 

وقت کا کچھ مزاج برہم ہے

روکنا فرض ہے مظالم کو 

جب تلک دم میں آپ کے دم ہے

بھول جاتے ہیں سب گلے شکوے 

دل سے دل کا جو ہوتا سنگم ہے

وقت پڑنے پہ انکشاف ہوا 

زخم پر کون رکھتا مرہم ہے

حق کا جینا حرام ہے زاہد 

سارے عالم میں ایسا عالم ہے


تجمل حسین زاہد

No comments:

Post a Comment