Saturday, 6 August 2022

درود پڑھ کے اگر کوئی ابتدا نہ کرے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


درود پڑھ کے اگر کوئی ابتداء نہ کرے

اسے یہ چاہیے پِھر ذکرِ مصطفیٰؐ نہ کرے

چراغِ حُبِ نبیﷺ کر کے دیکھیے روشن

مجال کیا ہے حفاظت جو پِھر ہوا نہ کرے

زبان وہ کسی مومن کی ہو نہیں سکتی

”خدا کا ذکر کرے ذکرِ مصطفیٰؐ نہ کرے“

اسے سکون کی منزِل نہ مل سکے گی کبھی

جو اختیار شریعتﷺ کا راستہ نہ کرے

دیا ہے درس طائف میں یہ سرورِؐ دیں نے

کِسی کے حق میں کوئی شخص بد دعا نہ کرے

شہِ اُممﷺ کی غلامی دلیلِ آزادی

غلام کیا جو غلامی کا حق ادا نہ کرے

عمل نہیں تو نہیں عشق معتبر اعجاز

کوئی ثنائے زبانی پہ اکتفا نہ کرے


اعجاز رحمانی

No comments:

Post a Comment