Saturday, 6 August 2022

پہنچوں در سرکار پہ چاہا تو یہی ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


پہنچوں درِ سرکارؐ پہ چاہا تو یہی ہے

آگے میری تقدیر، تمنا تو یہی ہے

اک خاص مہک آن لگی موجِ ہوا میں

آثار بتاتے ہیں مدینہ تو یہی ہے

ہیں گنبد خضراء کے سوا اور بھی جلوے

آنکھوں کے لیے خاص نظارہ تو یہی ہے

یہ ان کی رضا ہے مجھے بھیجیں مجھے روکیں

واپس نہیں آؤں گا سوچا تو یہی ہے

یاد ان کی رہے دل میں جمال ان کا نظر میں

نام ان کا زباں پر رہے اچھا تو یہی ہے

ہر سانس سے آتی ہو صدا صلِ علٰی کی

ہم لاکھ جئیں،۔ جینا تو یہی ہے

اظہارِ غمِ ہجر کی کیا شکل نکالوں

رونے کی بھی طاقت نہیں رونا تو یہی ہے

طیبہ میں ہوں سب کچھ میرے دامن میں ہے عاصی

دنیا کا کرم کیا، میری دنیا تو یہی ہے


عاصی کرنالی

No comments:

Post a Comment