Tuesday, 14 July 2020

کسی گم گشتہ محبت کی نشانی کے لیے

کسی گم گشتہ محبت کی نشانی کے لیے
شاخ پر پھول کھِلا یاد دہانی کے لیے
دل میں جو تھا وہ لکھا اس کے لیے کاغذ پر
بوسہ ہونٹوں پہ ہے پیغام زبانی کے لیے
عشق میں طے نہیں کرتے کوئی سودا لیکن
پھر بھی ارزاں ہوئے ہم تیری گرانی کے لیے
ریت ہی ریت بھری ہے مِرے مشکیزے میں
لب ِدریا نکل آیا تھا میں "پانی" کے لیے
مِرے ہاتھوں سے مجھے زہر پلایا اس نے
کیسا انجام چُنا میری "کہانی" کے لیے
خیمہ دوزی کا ہنر سیکھ رہا ہوں محسن
اس زمانے سے کہیں نقل مکانی کے لیے

محسن چنگیزی

No comments:

Post a Comment