وقت "ہنستا" ہوا گزرا مِری نادانی پر
میں کہ مامور تھا "منظر" کی نگہبانی پر
تو مِری پیاس خریدے گا؟ ہنسی آتی ہے
میں تو لعنت بھی نہ بھیجوں گا تِرے پانی پر
کاش خوشبو کو یہاں پھر سے بسا سکتا میں
اپنے ہمزاد میں اک طُرفہ کشش ہوتی ہے
اڑ کے آتی ہے پریشانی، پریشانی پر
قیمتیں گرتی ہیں معیار کے گر جانے سے
مجھ کو حیرت نہیں انسان کی "ارزانی" پر
کٹ گئے قفل و قفس آخری ہچکی کے ساتھ
رحم آ ہی گیا "زندان" کو "زندانی" پر
لو چراغوں کی جو بکتی ہوئی دیکھی میں نے
رات "حیران" ہوئی تھی مِری حیرانی پر
یہ وہ نعمت کہ جو تاروں کے مقدر میں نہیں
داغ" لگتا ہے فقط "چاند" کی پیشانی پر"
زندگی" کو ملی "پوشاکِ" محبت شاہد"
جس طرح تیرگی کر دے کوئی عریانی پر
شاہد ذکی
No comments:
Post a Comment