کس کرب میں ہجرت کی سزا کاٹ رہے ہیں
مٹی سے "بغاوت" کی سزا کاٹ رہے ہیں
اب کہر میں لپٹا ہوا "سورج" ہے مقدر
شبزاد سے بیعت کی سزا کاٹ رہے ہیں
ہم دُھوپ میں اُڑتے ہوئے زخمی سے پرندے
اب کوئی نہیں "راہ" میں تعبیر سرائے
خوابوں میں مسافت کی سزا کاٹ رہے ہیں
جو لوگ بنے بیٹھے ہیں تتلی کے نگہبان
بچوں کی ذہانت کی سزا کاٹ رہے ہیں
محروم سماعت سے ہیں آواز کے مجرم
اندھوں میں بصارت کی سزا کاٹ رہے ہیں
تکتے ہیں صنوبر جو ہمیں رشک سے محسن
اپنے قد و قامت کی "سزا" کاٹ رہے ہیں
محسن چنگیزی
No comments:
Post a Comment