Wednesday, 14 April 2021

دل جو وقف ستم ہو گیا

 دل جو وقفِ ستم ہو گیا

بے نیازِ کرم ہو گیا

حاجتِ چارہ گر اب نہیں

خود بخود درد کم ہو گیا

دل میں اب تم ہو ارماں نہیں

بت کدہ بھی حرم ہو گیا

جس نے غم کی اُڑائی ہنسی

خود گرفتارِ غم ہو گیا

دور نظروں سے جب وہ ہوئے

فاصلہ دل سے کم ہو گیا

ربط تھا برق سے اس قدر

آشیاں اس میں ضم ہو گیا

اصل میں ہے وہ انساں سعید

جس کو ادراکِ غم ہو گیا


سعید شہیدی

No comments:

Post a Comment