Wednesday, 14 April 2021

نکلا جو چلمنوں سے وہ چہرہ آفتابی

 نکلا جو چلمنوں سے وہ چہرہ آفتابی

اک آن میں افق کا آنچل ہوا گلابی

رخ سے نقاب ان کے سرکا ہوا ہے کچھ کچھ

دیوانہ کر نہ ڈالے یہ نیم بے حجابی

سو جام کا نشہ ہے ساقی تری نظر میں

کہتے ہیں بادہ کش بھی مجھ کو تِرا شرابی

بے کار لگ رہی ہیں دنیا کی سب کتابیں

دیکھی ہے جب سے میں نے صورت تِری کتابی

مرجھائے پھول سب ہیں کلیوں نے سر جھکائے

گلشن میں اک ستم ہے یہ تیری بے نقابی

کب چین سے رہا ہے یہ فکر کا پرندہ

فیاض کی ہے فطرت کس درجہ اضطرابی


فیاض فاروقی

No comments:

Post a Comment