نکلا جو چلمنوں سے وہ چہرہ آفتابی
اک آن میں افق کا آنچل ہوا گلابی
رخ سے نقاب ان کے سرکا ہوا ہے کچھ کچھ
دیوانہ کر نہ ڈالے یہ نیم بے حجابی
سو جام کا نشہ ہے ساقی تری نظر میں
کہتے ہیں بادہ کش بھی مجھ کو تِرا شرابی
بے کار لگ رہی ہیں دنیا کی سب کتابیں
دیکھی ہے جب سے میں نے صورت تِری کتابی
مرجھائے پھول سب ہیں کلیوں نے سر جھکائے
گلشن میں اک ستم ہے یہ تیری بے نقابی
کب چین سے رہا ہے یہ فکر کا پرندہ
فیاض کی ہے فطرت کس درجہ اضطرابی
فیاض فاروقی
No comments:
Post a Comment