Wednesday, 14 April 2021

جنون شوق محبت کی آگہی دینا

 جنونِ شوقِ محبت کی آگہی دینا

خودی بھی جس پہ ہو قرباں وہ بیخودی دینا

نہ شور چاہیے دریا کی تُند موجوں کا

مِرے لہو کو سمندر کی چاندنی دینا

تُو دے نہ دے مِرے لب کو شگفتگی گُل کی

جو دے سکے تو شگوفے کی بے کلی دینا

شناخت جس سے زمانے میں آدمی کی ہے

یہ التجا ہے کہ تو مجھ کو وہ خودی دینا

جھکا سکے نہ مِرا سر کوئی بھی قدموں پر

جو ہو سکے تو مجھے تو وہ سرکشی دینا

نقاب الٹ دے جو بڑھ کر رُخِ تمنا سے

یہ آرزو ہے کہ مجھ کو وہ تشنگی دینا

نئی جہات سے فن کو جو آشنا کر دے

مِرے قلم کو خدایا وہ کج روی دینا


علقمہ شبلی

No comments:

Post a Comment