Saturday, 3 July 2021

یہ اب کھلا ہے کہ اتنا غبار تھا مجھ میں

 یہ اب کھُلا ہے کہ اتنا غُبار تھا مجھ میں

اس انتشار سے پہلے قرار تھا مجھ میں

اکٹھے رہتے تھے ہم دو الگ مکانوں میں

میں یار میں تھا مکیں اور یار تھا مجھ میں

میں اس وجود سے نکلا تو مجھ پہ بھید کھُلا

وہ میں ہی تھا جو بہت بے قرار تھا مجھ میں

تجھے فقط مِری آنکھوں کا نم نظر آیا

مگر اک اور بھی گِریہ گزار تھا مجھ میں

مِرے وجود پہ سیلن بھری اُداسی تھی

نجانے کون تھا جو اشکبار تھا مجھ میں

وہ شعر چھیڑتا اور آنکھ بھیگ جاتی مِری

غزل سرا کوئی نوحہ نگار تھا مجھ میں

تِرے بچھڑنے پہ چُپ تھا تِری رضا کے لیے

وہ شخص بھی جو بہت سوگوار تھا مجھ میں

مِرے سکوت نے وحشت سے بھر دیا تھا اسے

نیا نیا کوئی آباد کار تھا مجھ میں

کبھی رہا ہی نہیں خود پہ اختیار شعیب

مِرے سوا ہی کسی کا شمار تھا مجھ میں


شعیب بخاری

No comments:

Post a Comment