زندگی اے زندگی
تُو اندر ذات میں روتی ہے
کبھی باہر آ کر رویا کر
تیری اک مُسکان پہ واری سب
تیری اک اک رات ہے بھاری اب
جو سو جائے تو سو جائے
کوئی بھیدوں والی راتیں ہوں
کوئی دن قرأت سے عالی ہوں
میرے رنگ تجھ میں یوں جان بھریں
میرے سُر تجھ میں یوں راگ بھریں
کبھی آ جانا اس گھر میں تو
تیری مُورت کو دفنائیں گے
تمثیل حفصہ
No comments:
Post a Comment