Sunday, 3 April 2022

روح کو قید کیے جسم کے ہالوں میں رہے

 روح کو قید کیے جسم کے ہالوں میں رہے

لوگ مکڑی کی طرح اپنے ہی جالوں میں رہے

جسم کو آئینہ دکھلاتے ہیں سائے، ورنہ

آدمی کے لیے اچھا تھا اجالوں میں رہے

وقت سے پہلے ہو کیوں ذہن پہ خورشید کا بوجھ

رات باقی ہے ابھی، چاند پیالوں میں رہے

پھر تو رہنا ہی ہے گھورے کا مقدر ہو کر

پھول تازہ ہے ابھی ریشمی بالوں میں رہے

شوق ہی ہے تو بہرحال تماشا بنیے

یہ ضروری نہیں وہ دیکھنے والوں میں رہے

اب کیلنڈر میں نیا ڈھونڈئیے چہرہ شاہد

کب تلک ایک ہی تصویر خیالوں میں رہے


شاہد کبیر

No comments:

Post a Comment