یاد کی خوشبو غموں کی شام کو سُلگائے ہے
زندگی مجھ کو تیری زلفوں میں پھر الجھائے ہے
اب بھی سوچوں میں دمکتا ہے کوئی انجم مثال
اب بھی سانسوں کو کوئی مہتاب رُخ مہکائے ہے
ایک بار اور آ کے مِل اور عمر بھر تڑپا کے دیکھ
اک جھلک دِکھلا کے کب تک روح کو ترسائے ہے
دھڑکنوں میں روز ہی بُنتا رہوں اس کا خیال
گیت بن کے جو سدا ہونٹوں پہ سجتا جائے ہے
دور رِہ کر پاس ہے اور پاس رِہ کر دور ہے
زُلف بکھرے ہے کہیں آنچل کہیں لہرائے ہے
عطا شاد
No comments:
Post a Comment