اے زندگی! اک بار تو، نزدیک آ تنہا ہوں میں
یا دور سے پھر دے مجھے کوئی صدا تنہا ہوں میں
مجھ سے بچھڑ کر کھو گیا، دنیا کی تُو اس بھیڑ میں
تجھ سے بچھڑ کر آج تک، اے بے وفا تنہا ہوں میں
اے جانِ تنہائی بتا، میں کیا کروں، جاؤں کہاں؟
دیتا نہیں کوئی مجھے، تیرا پتہ تنہا ہوں میں
تک تک کے تیری راہ سب، چاند اورستارے سو گئے
امید کی دہلیز پہ جلتا دِیا🪔، تنہا ہوں میں
ایسا نہیں کہ پیار کے، سب راستے ویران ہیں
اس راہ میں جو بھی ملا، کہنے لگا تنہا ہوں میں
اب کیا کہوں امید کا ایک ایک پَل کیسے کٹا؟
دن ڈھل گیا، شب کٹ گئی، دل بجھ گیا، تنہا ہوں میں
دنیا کی محفل میں کہیں، میں ہوں بھی شاہد یا نہیں
اک عمر سے اس سوچ میں ڈوبا ہوا تنہا ہوں میں
شاہد کبیر
No comments:
Post a Comment