Sunday, 11 October 2020

چراغوں کا گھرانہ چل رہا ہے

 چراغوں کا گھرانہ چل رہا ہے

ہوا سے دوستانہ چل رہا ہے

جوانی کی ہوائیں چل رہی ہیں

بزرگوں کا خزانہ چل رہا ہے

مِری گم گشتگی ہر ہنسنے والو

مِرے پیچھے زمانہ چل رہا ہے

ابھی ہم زندگی سے مل نہ پائے

تعارف غائبانہ چل رہا ہے

نئے کردار آتے جا رہے ہیں

مگر ناٹک پرانا چل رہا ہے

وہی دنیا وہی سانسیں وہی ہم

وہی سب کچھ پرانا چل رہا ہے

زیادہ کیا توقع ہو غزل سے

میاں بس آب و دانا چل رہا ہے

سمندر سے کسی دن پھر ملیں گے

ابھی پینا پلانا چل رہا ہے

وہی محشر وہی ملنے کا وعدہ

وہی بوڑھا بہانا چل رہا ہے

یہاں اک مدرسہ ہوتا تھا پہلے

مگر اب کارخانہ چل رہا ہے


راحت اندوری

No comments:

Post a Comment