دن فقیرانہ کٹے، مقبرہ شاہانہ بنا
تیرا دیوانہ بنا ہوں تو یہ افسانہ بنا
آخِرش خاک کا پُتلا تو بنا ڈالا ہے
اتنا کافی ہے مجھے اور تماشا نہ بنا
ذرہ ذرہ مجھے گُھلنا ہے تو مت جوڑ مجھے
قطرہ قطرہ مجھے رونا ہے تو دریا نہ بنا
اوجِ لاہُوت سے اُترا ہوں، زمیں زاد کہاں
میری مٹی کو خُمِ ذات کا پیمانہ بنا
ایک درخواست ہے اے دل کے بنانے والے
اب بنا تو کسی بندے کو بھی کالا نہ بنا
ہوشمندوں میں کہاں تیرے خدوخال کا ذوق
شہرِ بیدار میں مسجد نہیں مے خانہ بنا
اتنا انصاف تو کر پیار بنانے والے
اس کو اعلیٰ تو بنا پر مجھے ادنیٰ نہ بنا
تیورِ در میں بنا دستکِ دستار کا خم
سنگِ دہلیز فقط اس کا ہی آ جانا بنا
ادریس آزاد
No comments:
Post a Comment