Monday, 19 April 2021

سرد آہوں سے ٹھٹھرے ہوئے قلب و جاں

 سرد آہوں سے ٹھٹھرے ہوئے قلب و جاں

اب کے اوجِ دسمبر میں پِگھلے

تو آنکھوں سے وہ آبشاریں برآمد ہوئیں

سب نشاں دُھل گئے

کوئی یاد آ گیا

ایک کاندھا جو کتنا مہربان تھا

آج بھی ڈھیروں مٹی تلے

میری تالیفِ دل کو پریشان ہے

یاد کے پھول کھڑکی میں کھِلتے ہیں اور

اُن کی بھینی مہک اور دھیمی سی آواز سے

راز بجتے ہیں

رشتوں کی تاروں کو غرضوں کے مِضراب سے چھیڑ کر

ساز بجتے ہیں

غم کے، الم کے، کبھی سانس کے زیر و بم کے، ستم کے

لگاتار برسات کے بادلوں کی طرح

سنا ہے مری میں نئے سال کی برفباری شروع ہو گئی ہے

سنا ہے یہاں دامنِ کوہ پر بھی

کسی دُودھیا یاد کے چند گالے گِرے ہیں

سنا ہے کہ نتھیا گلی کی سڑک ایسے سنسان ہے

جیسے زرپوش پریوں کے آنے پہ

آلُودہ ٹھنڈے وجودوں کو

دم کھینچنے کی بھی ہمت نہ ہو

اس سڑک کے کنارے دھرا

اِک پرانا سا لکڑی کا بنچ آج بھی

مُنتظرہے کسی کی ملاقات کا

اور وہیں پر زمیں پر

گِری سُرخ پھولوں کی بِکھری ہوئی پتیاں

جیسے اس جامنی شال والی کے پیروں میں قالین ہو

ساتھ ہی، ننگے پیڑوں کا تن ڈھانپتی رُوئی

اور تیز ٹھنڈی ہوا

شکر ہے سال پورا ہوا

عمر کے چند آزُردہ دن گھٹ گئے

نو برس کٹ گئے

اب بھی سینے میں خنجر تو موجود ہے

سال بھر دُکھتا رہتا ہے

لیکن دسمبر کی خُنکی میں اب زخم سے

ٹِیسیں اُٹھتی ہیں

جیسے زمستان میں چیختے نِیل کنٹھ

اپنے بچھڑوں ہوؤں کو بُلاتے ہوئے

جیسے موسم کا بربط بجاتی ہوئی ڈال

جو پیڑ سے ٹُوٹ کر بھی

اُسی بے مروت کے دامن سے لپٹی رہی

برف اُمید خوابوں کی گرمی سے خالی

خیالوں کی تشکیل موقوف، جامد

اُمنگوں کی تھیلی میں مٹی

جو گزرے ہوئے وقت کی قبرپر ڈالنا ہے

نہ حسرت، نہ جینے کی خواہش، نہ کوئی تمنا

تو ایسے میں ہردم رُلاتا دسمبر

کہاں پر ہماری طلب لا سکے گا

جو ہم دل فگاروں کو راس آسکے گا؟


ادریس آزاد

No comments:

Post a Comment