Thursday, 10 December 2020

دل ہے ویران بیاباں کی طرح

 دل ہے ویران بیاباں کی طرح

گوشۂ شہرِ خموشاں کی طرح

ہائے وہ جسم تہِ خاک ہے آج

جس نے رکھا تھا ہمیں جاں کی طرح

صاحبِ خانہ سمجھتے تھے جسے

چل دیا گھر سے وہ مہماں کی طرح

چاند سورج کا گماں تھا جس پر

بجھ گیا شمعِ شبستاں کی طرح

سایۂ عاطفت اب سر پہ نہیں

سایۂ ابرِ گریزاں کی طرح

ہے اگر اپنا مقدر بھی تو ہے

تنگ بس تنگئ داماں کی طرح


عمیق حنفی

No comments:

Post a Comment