میرے اشکوں کی التجا کیا ہے
ہنسنے والے تجھے پتا کیا ہے
اک دیوانے کو اس سے کیا مطلب
سنگ کیا چیز، آئینہ کیا ہے
میں نے روکا ہے اپنی سانسوں کو
پوچھ مت مجھ سے تُو فنا کیا ہے
جب نظر کو نظر نہیں آتا
دل یہ کہتا ہے پھر خدا کیا ہے
مت مجھے آسماں گواہی دے
جانتا میں بھی ہوں خدا کیا ہے
اپنا غم تک چھپا نہیں سکتا
میری تقدیر میں لکھا کیا ہے
کچھ۔ نہیں یہ عذابِ قدرت ہے
جو یہ اٹھتا ہے زلزلہ کیا ہے
اے طبیبوں خبر مجھے کر دو
عشق کا مرض ہے دوا کیا ہے
موت سے ہاتھ کیوں ملاتی ہے
زندگی تیرا فلسفہ کیا ہے
تیری زلفوں کی داستاں ہے سب
یہ ردیف اور قافیہ کیا ہے
جب یہ دو دل قریب آ بیٹھے
پھر یہ نظروں میں فاصلہ کیا ہے
عمر بھر پیروی کروں تیری
عشق تُو نے مجھے دیا کیا ہے
خود کو پتھر بنا لیا میں نے
مجھ۔ سے دل نے میرے کہا کیا ہے
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment