سنو شاہزادی
ہمارے تصور میں دِن رات اک کرنے والی
ہماری محبت کا دم بھرنے والی
ہمارے لیے شاعری لکھنے والی
یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی کسی کو یوں دل سے پکارے
تو اس کو خبر تک نہ ہو
ہاں یہ امکان غالب ہے
وہ روزگارِ زمانہ میں اس درجہ مصروف ہو کہ
کئی دن تلک فیس بک ہی نہ کھولے
کوئی بات بھی کر نہ پائے
مگر شاہزادی
یہ مت سوچنا تم
کہ یہ روزگارِ زمانہ، مشقت، یہ آفس کی مصروفیت
تیری یادوں سے بیگانہ کر دے گی اس کو
تمہیں کیا خبر ہے کہ دن کی مشقت سے تھک ہار کر جب
وہ بستر پہ گرتا ہے
تب اک تمہارا تصور ہی ساری تھکن دور کر دیتا ہے
اور بدن میں نیا جوش بھر دیتا یے
سنو شاہزادی
یہ جو عارضی فاصلے ہیں
ہماری محبت کا اک امتحاں ہیں
ذرا دیر ٹھہرو
کہ اب وصل کی رُت بھی نزدیک تر ہے
سنو شاہزادی! اسے سب خبر ہے
شہزاد واثق
No comments:
Post a Comment