Sunday, 2 May 2021

میں اپنے خواب میں کچھ خاک میں ملاتی ہوں

 میں اپنے خواب میں کچھ خاک میں ملاتی ہوں

نہ جانے خاک سے ایسا میں کیا اٹھاتی ہوں

ستارے بھر کے میں دامن میں جب بھی لاتی ہوں

تمہاری راہ میں پھر شوق سے بچھاتی ہوں

پیاس دیکھ رہے ہیں یہ تشنہ لب میرے

میں اشک پیتی ہوں اور تشنگی مٹاتی ہوں

زمانے بھر سے وہ مجھ کو حسین لگتا ہے

زمانے بھر سے یہی بات میں چھپاتی ہوں

کبھی کبھی تو مجھے یاد تک نہیں رہتا

کہ چاند جلتا ہے شب میں یا دل جلاتی ہوں

میں لکھ رہی ہوں محبت پہ ایک نظم مگر

کبھی میں لکھتی ہوں اس کو کبھی مٹاتی ہوں

کرو یہ وعدہ کہ مجھ سے خفا نہیں ھونا

میں مانتی ہوں کہ میں بات کو بڑھاتی ہوں

فسانے لکھتی ہوں میں غمزدہ محبت کے

میں درد لکھتی ہوں اور درد ہی کماتی ہوں


دلشاد نسیم

No comments:

Post a Comment