پامال نقش ہوں میں ابھارو گے کیا مجھے
تم اپنے آئینے میں سنوارو گے کیا مجھے
کورے بدن کے واسطے تنہائی موت ہے
میں زندگی کا روپ ہوں دھارو گے کیا مجھے
جیسے پکارتے ہو مجھے تم نشیب میں
ایسے بلندیوں پہ پکارو گے کیا مجھے
میں شال کی بُنت کا دوپٹہ ہوں اصل میں
سردی گزر گئی تو اتارو گے کیا مجھے
اچھا نہیں ہے اس قدر افراطِ قُرب بھی
پھُولوں کا بوجھ لاد کے مارو گے کیا مجھے
پارس مزاری
No comments:
Post a Comment