Wednesday, 19 January 2022

میری خزاں تو سبز ہوئی اس خمار میں

 میری خزاں تو سبز ہوئی اس خمار میں

آنے کا اس نے وعدہ کیا ہے بہار میں

رکھی ہوئی ہے لاج مِری میرے عشق نے

ورنہ تو کیا رکھا ہوا ہے انتظار میں

گھر بھی مجھے تو دشت سا لگتا ہے تیرے بن

لگتا نہیں ہے دل مِرا اجڑے دیار میں

اب جو سلوک تو کرے یہ ظرف ہے تِرا

میں آ گئی ہوں آج تِرے اختیار میں

روشن نہ ہو سکی کبھی یہ شام غم مِری

میں نے جلائے دیپ کئی اعتبار میں

میری وفا کے ذکر پہ اس کی وہ خامشی

سارے جواب مل گئے اس اختصار میں

دیکھی تو ہو گی راہ مِری اس نے بھی کبھی

آیا بھی ہو گا اشک مِرے چشمِ یار میں

دیکھا ہے میں نے معجزہ دلشاد ایسا بھی

ہنسنے سے اس کے گل کھلے ہیں کنج خار میں


دلشاد نسیم

No comments:

Post a Comment