Sunday, 13 March 2022

جس کا نہ قاعدہ نہ کوئی بھی اصول ہے

 جس کا نہ قاعدہ نہ کوئی بھی اصول ہے

وہ کہہ رہا تھا مجھ سے محبت فضول ہے

آنکھوں کے سرخ ڈورے ہیں اس کے گواہ ، پر

وہ مسکرا کے کہتا ہے یوں ہی ملول ہے

سوکھے ہیں ہونٹ اور ندامت بھی ہے عیاں

چہرے پہ لگ رہا ہے مسافت کی دھول ہے

پھولوں کی کس کو چاہ ہے کانٹا ملے اگر

وہ بھی تمہارے پیار میں مجھ کو قبول ہے

زبدہ! اگر تجھے ہی نہ کوئی سمجھ سکے

اس میں تِری نہیں یہ زمانے کی بھول ہے


زبدہ خان

No comments:

Post a Comment