جس کا نہ قاعدہ نہ کوئی بھی اصول ہے
وہ کہہ رہا تھا مجھ سے محبت فضول ہے
آنکھوں کے سرخ ڈورے ہیں اس کے گواہ ، پر
وہ مسکرا کے کہتا ہے یوں ہی ملول ہے
سوکھے ہیں ہونٹ اور ندامت بھی ہے عیاں
چہرے پہ لگ رہا ہے مسافت کی دھول ہے
پھولوں کی کس کو چاہ ہے کانٹا ملے اگر
وہ بھی تمہارے پیار میں مجھ کو قبول ہے
زبدہ! اگر تجھے ہی نہ کوئی سمجھ سکے
اس میں تِری نہیں یہ زمانے کی بھول ہے
زبدہ خان
No comments:
Post a Comment