Sunday, 13 March 2022

وقت آنے دو چاک سی لیں گے

 وقت آنے دو چاک سی لیں گے

ابر اٹھنے دو ہم بھی پی لیں گے

انقطاعِ تعلقات سہی💢

اپنی ہمت ہوئی تو جی لیں گے

تم پرستش کرو ستاروں کی

ہم ستاروں سے روشنی لیں گے

مسئلہ زندگی کا سیدھا ہے

ہم مِرے بھی تو زندگی لیں گے

سانس لینے کو یوں تو لیتے ہیں

چین کا سانس بھی کبھی لیں گے

آتش و آب لیں گے شبنم سے

اور پھولوں سے تازگی لیں گے

ایسی جرأت کہاں حریفوں میں

جو ترا غم خوشی خوشی لیں گے


افسر آذری

No comments:

Post a Comment