Wednesday, 4 August 2021

حسن پردوں میں عشق خلوتوں میں

 حسن پردوں میں، عشق خلوتوں میں

مقامِ شوق، نیم شب، تہجدوں میں

لذتِ ذکر سے جب آشنا ہو جائے دل

پھر نہیں سرور دنیا کی جلوتوں میں

راز رکھے جو وہی راز پائے بھی

پہلا درس مکتبۂ عشق کے درسوں میں

قلب ہے وہی، جو قلبِ جاری ہو

کجا کہ رکھا ہو پتھر سینوں میں

زندگی یہ اور دنیا، جہانِ تلاش ہے

وہی اک رستہ، سب رستوں میں

اسے پانے کی جستجو میں، کمی نہ پائی کبھی

لذتِ شوق بڑھتی گئی، عشق کی منزلوں میں

نورِ حق کی ضو سے، جو دل ہوا منور

پھر نہیں خوف اسے ظلمتوں میں

حسرتِ دیدار جن آنکھوں میں بس جائے

وضو سے رہتی ہیں وہ آنسووٴں میں

اک سفر کہ ہوا چشمِ زدن میں طے

معراجِ عشق، کمالِ قدرت کے کرشموں میں

ماہِ تمام روشن کر دے، میری شب تاریک

بس یہی حسرت میری حسرتوں میں

قید ہے جسم میرا چارسو میں مگر

روح کو پرواز، لامکاں کی رفعتوں میں


مبین نثار

No comments:

Post a Comment