وہ اٹھے ہیں تیور بدلتے ہوئے
چلو دیکھیں تلوار چلتے ہوئے
نہ دیکھا تِرے دور میں اے فلک
نہالِ تمنا کو پھَلتے ہوئے
ہیں انگشت حیرت بدنداں مسیح
وہ مُردے جلاتے ہیں چلتے ہوئے
چلو مے کدہ محفلِ وعظ سے
یہ عمامے دیکھو اُچھلتے ہوئے
زباں پر تِرا نام جب آ گیا
تو گِرتے کو دیکھا سنبھلتے ہوئے
محبت میں پائے ہر اک راہ سے
ہزاروں ہی رستے نکلتے ہوئے
ہیں کیا ان کی زلفیں یہ اے دل نہ پوچھ
چھلّاوے کو دیکھا ہے چھَلتے ہوئے
بنے جزوِ تن جب چُبھے خارِ غم
یہ کانٹے نہ دیکھے نکلتے ہوئے
کیا کچھ نہ جب تک رہا اختیار
جہاں سے چلے ہاتھ مَلتے ہوئے
غم عشق پیدا ہوا میرے ساتھ
اسے گزری اک عمر پلتے ہوئے
رکے کس طرح تیغِ ابرو کا وار
سنا ہے اجل کو بھی ٹلتے ہوئے
ان آنکھوں کے فتنوں کا کیا پوچھنا
یہ جادو ہیں لاکھوں میں چلتے ہوئے
نہیں شمعِ عارض پہ خط جمع ہیں
ہزاروں ہی پروانے جلتے ہوئے
فسانے ہیں مشہور عشاق کے
کٹی عمر فُرقت میں جلتے ہوئے
جواں مرتے دیکھے بہت نامراد
سنا ہو گا ارماں نکلتے ہوئے
نہیں کھیل چلنا رہِ عشق میں
ذرا پاؤں رکھنا سنبھلتے ہوئے
جو مشہور ثابت قدم تھے حبیب
انہیں ہم نے دیکھا پھسلتے ہوئے
حبیب موسوی
No comments:
Post a Comment