زندگی انگنت فاصلوں کا سفر
دائرہ دائرہ مسکراتی ہوئی گیت گاتی ہوئی لڑکیوں کا سفر
زندگی انگنت موسموں کا سفر
لو سے بادِ صبا کو بدلتی ہوئی ساعتوں کا سفر
زندگی ربط ہے
زندگی حسن ہے
اور محبت کے نیلے حسیں پانیوں پر اچھلتی، چھچلتی لہر ہے
سحر ہے زندگی
یہ برا دور تو درمیانی خلا ہے جو اک دن سمٹ جائے گا
درد گھٹ جائے گا
وقت کٹ جائے گا
ہجر کی داستاں کو سناتے سناتے پلٹ آئیں گے سارے کردار جو رہ گئے تھے کہیں
بہہ گئے تھے کہیں
رودِ ہجراں کے سیلاب میں، خواب میں
آسماں سے ستاروں کی کِن مِن برسنے کو مدت ہوئی
لیکن اک روز سیارۂ نیلگوں پر ستارے اتر آئیں گے
بارشوں کی طرح
خوشبوؤں کی طرح
ننھے بچوں کے بوسوں کی مانند
جن کے لبوں کے نشاں آج تک ماں کے بوسیدہ گالوں پر روشن رہے
جگنوؤں کی طرح
زندگی حُسن ہے
زندگی خواب ہے
بھُول جاؤ جو ہوتا ہے اور ہو چکا
آدمی اپنے ہونے کا احساس بھی کھو چکا
اور بہت رو چکا
وقت بدلے گا
موسم بدل جائیں گے
بھُولی بِسری تمناؤں کی آیتیں یاد ہو جائیں گی
ایک دن دیکھتے دیکھتے بستیاں ساری آباد ہو جائیں گی
تہذیب حافی
No comments:
Post a Comment