موازنہ اگر اپنا کتاب سے کرے گی
ہماری حُور محبت حجاب سے کرے گی
ہمیں کہے گی کہ خوابوں میں چھوڑ دو رہنا
پھر اپنی بات کا آغاز خواب سے کرے گی
کسی گھڑے کسی نلکے سے بے غرض ہو گی
وہ اپنی پیاس کی باتیں سراب سے کرے گی
یہ لب وہی ہیں جنہیں پنکھڑی کہا گیا ہے
تُو پہلا عشق بھی شاید گلاب سے کرے گی
جدید دور کی لڑکی ہے گر محبت بھی
کبھی کرے گی تو پورے حساب سے کرے گی
ندیم بھابھہ
No comments:
Post a Comment