Saturday, 11 December 2021

بات ہی بات میں برہان بدل جاتے ہیں

 بات ہی بات میں بُرہان بدل جاتے ہیں

بات بڑھتی ہے تو عنوان بدل جاتے ہیں

مسندیں بھی وہی دربان و تماشے بھی وہی

سب وہی رہتا ہے، خاقان بدل جاتے ہیں

جو ہیں انسان انہیں وقت سے تشبیب نہ کر

کون کہتا ہے کہ انسان بدل جاتے ہیں

مصر کا چاند نہ بدلے، نہ زلیخا بدلے

قید یوسف ہو تو زندان بدل جاتے ہیں 

کیوں نہ وہ سازشِ بارش کا گریباں پکڑیں

قحط پڑتا ہے تو دہقان بدل جاتے ہیں

تم صنم خانے کی رنگینیوں میں یوں نہ پھرو

ایسے طوافوں سے ایمان بدل جاتے ہیں

سخنِ ساگر کو نہ تولا کرو مفعولن میں

بحر کے ساتھ ہی ارکان بدل جاتے ہیں


ساگر اعجاز

No comments:

Post a Comment