روح کی سر زمیں پہ ایک ہی چھایا ہوا شخص
میرے احساس کہ رنگوں میں سمایا ہوا شخص
اس قدر سوچ کی مسند پہ آ کے بیٹھا ہے
میرے ہر شعر کی آمد میں ہے آیا ہوا شخص
اپنی مٹی سے بہت پیار ہے اس کو شاید
روز مرتا ہے وہ پردیس میں لایا ہوا شخص
کیسے دنیا نے اسے ڈھونڈ لیا حیرت ہے
کئی پردوں میں تھا جو ایک چھپایا ہوا شخص
میرے بے پایاں سروں سے وہ نکل کر ہے گیا
جو غزل کی ہی حسیں دھن میں تھا گایا ہوا شخص
جس کو پایا تھا بڑی مدتوں سے رو رو کے
کھو دیا آج تو ساگر نے وہ پایا ہوا شخص
ساگر اعجاز
No comments:
Post a Comment