Sunday, 17 October 2021

کچھ سلیقے سے اگر چاک گھمایا جاتا

 کچھ سلیقے سے اگر چاک گھمایا جاتا

عین ممکن ہے کہ شہ کار بنایا جاتا

جانے والے نے غلط فہمی میں لوٹ آنا تھا

بے خیالی میں بھی گر ہاتھ ہلایا جاتا

عشق منصور کو خود دار تلک لے آیا

اس سے پہلے کہ کوئی حشر اٹھایا جاتا

لوٹنے والا اسی سوچ میں مر جائے گا

کاش زنجیر کو دو بار ہلایا جاتا

رنگ بھرنے میں مصور نے ریاکاری کی

ورنہ تصویر کو مندر میں لگایا جاتا

اس میں وحشت ہے اذیت ہے زبوں حالی ہے

اب یہ کردار نہیں مجھ سے نبھایا جاتا

آپ تو شکل سے لگتے ہیں اداکار مجھے

آپ جیسوں کو نہیں دوست بنایا جاتا

اولیں خط کو جلا کر وہ گنہ گار ہوا

کاش تعظیم سے دریا میں بہایا جاتا

میں نے بدلی ہیں روایات پرانی ورنہ

میں بھی فیصل کسی پٹڑی سے اٹھایا جاتا


فیصل ندیم

No comments:

Post a Comment