کربِ تاریک کو یوں بے نقاب کرنا تھا
ہر شبِ غم کو مجھے آفتاب کرنا تھا
دل کی چوٹوں کہ مؤلف کو اک قلم سونپا
غم کے دوران، غمِ احتساب کرنا تھا
رتجگے مشقِ سخن کثرتِ تکرار روا
پستئ روح کو بھی صحت یاب کرنا تھا
میں مخلصی کے زمانے کا فرد ہوں یارو
زرق سوچوں سے مجھے اجتناب کرنا تھا
روح پیوست ہے تعبیر کی پیشانی پر
اپنی بستی کا جو کھنڈر گلاب کرنا تھا
تیرگی تیرے تماشوں کا جلا کر جنگل
یوں اجالوں کو مجھے بازیاب کرنا تھا
بجھتی آنکھوں کی اماوس میں دیپ کی مانند
پھر سے جینے کی امنگ کا خطاب کرنا تھا
پھر سے تابندہ تخیل میں کیوں گیا ساگر
اپنے آدرش کو یوں ماہتاب کرنا تھا
ساگر اعجاز
No comments:
Post a Comment