Tuesday, 11 January 2022

غفلتوں کا ثمر اٹھاتا ہوں

 غفلتوں کا ثمر اٹھاتا ہوں

روز تازہ خبر اٹھاتا ہوں

بات بڑھتی ہے طول دینے سے

سو اسے مختصر اٹھاتا ہوں

ہو کے باشندہ اک ستارے کا

انگلیاں چاند پر اٹھاتا ہوں

چومتے ہیں جسے اٹھا کر لوگ

میں اسے چوم کر اٹھاتا ہوں

اب کہاں آسمان چھونے کو

زحمت بال و پر اٹھاتا ہوں

سوئے منزل میں ہر قدم اپنا

اک فلک چھوڑ کر اٹھاتا ہوں

وار کرتی ہے جب پلٹ کر موج

احتیاطاً بھنور اٹھاتا ہوں

اپنی مفتوحہ سر زمینوں پر

پاؤں رکھتا ہوں سر اٹھاتا ہوں


سرفراز زاہد

No comments:

Post a Comment