حوادث اپنی آنکھیں مل رہے ہیں
ستارے بین کر کے ڈھل رہے ہیں
تمہیں چڑھتی جوانی کی پڑی ہے
مِرے گھر میں مسائل چل رہے ہیں
تمہاری آنکھ میں رنگين تعبیر
ہمارے خواب زندہ جل رہے ہیں
ہماری آستیں میں سانپ بچھو
تمہارا نام لے کر پل رہے ہیں
کسی کی آنکھ نے پتھر بنایا
کسی کو دیکھ کر ہم شل رہے ہیں
ردا زینب شاہ
No comments:
Post a Comment