Monday, 24 August 2020

روشنی مر گئی اندھیروں میں

اک دیا بھی نہیں بچا گھر میں
روشنی مر گئی اندھیروں میں
مونگ دلتے ہیں روز سینے پر
حوصلہ ہے بلا کا سڑکوں میں
کھا گیا ان کا غم جو مدت سے
جی رہے ہیں سیاہ کمروں میں
سب ہیں اس سے معِ خدا محروم
وہ جو ہے خاص بات ماؤں میں
یہ سراسر ہے آدمی کا ہنر
شہر پیدا کئے ہیں گاؤں میں
ایک تعبیر بھی نہیں دیکھی
وقت ضائع کیا ہے خوابوں میں
اس جہاں کا برا بھلا سب کچھ
ہے ہمیشہ سے چند ہاتھوں میں
نیچے دیکھو تو ایسا لگتا ہے
جیسے پگڈنڈیاں پہاڑوں میں
یہ تصوف ہے صرف مرگِ حیات
زیست کا ہے مزا سوالوں میں

راغب تحسین

No comments:

Post a Comment