اک دیا بھی نہیں بچا گھر میں
روشنی مر گئی اندھیروں میں
مونگ دلتے ہیں روز سینے پر
حوصلہ ہے بلا کا سڑکوں میں
کھا گیا ان کا غم جو مدت سے
سب ہیں اس سے معِ خدا محروم
وہ جو ہے خاص بات ماؤں میں
یہ سراسر ہے آدمی کا ہنر
شہر پیدا کئے ہیں گاؤں میں
ایک تعبیر بھی نہیں دیکھی
وقت ضائع کیا ہے خوابوں میں
اس جہاں کا برا بھلا سب کچھ
ہے ہمیشہ سے چند ہاتھوں میں
نیچے دیکھو تو ایسا لگتا ہے
جیسے پگڈنڈیاں پہاڑوں میں
یہ تصوف ہے صرف مرگِ حیات
زیست کا ہے مزا سوالوں میں
راغب تحسین
No comments:
Post a Comment