Monday, 24 August 2020

جس کے پلو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بوٹ

جس کے پلو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بوٹ
ایسی دربار سے بخشی ہوئی دستار پہ تھو
جو فقط اپنے ہی لوگوں کا گلا کاٹتی ہو
ایسی تلوار مع صاحبِ تلوار پہ تھو
شہر آشوب زدہ، اس پہ قصیدہ گوئی
گنبدِ دہر کے اس پالتو فنکار پہ تھو
سب کے بچوں کو جہاں سے نہ میسر ہو خوشی
ایسے اشیائے جہاں سے بھرے بازار پہ تھو
روزِ اول سے جو غیروں کا وفادار رہا
شہرِ بد بخت کے اس دوغلے کردار پہ تھو
زور کے سامنے کمزور، تو کمزور پہ زور
عادلِ شہر! تِرے عدل کے معیار پہ تھو
کاٹ کے رکھ دیا دنیا سے تِری راغب نے
اے عدو ساز! تِری دانشِ بیمار پہ تھو

راغب تحسین

No comments:

Post a Comment