Tuesday, 10 January 2017

وہ دل بھی جلاتے ہیں رکھ دیتے ہیں مرہم بھی

وہ دل بھی جلاتے ہیں رکھ دیتے ہیں مرہم بھی
کیا طرف طبیعت ہے شعلہ بھی ہیں شبنم بھی
خاموش نہ تھا دل بھی خوابیدہ نہ تھے ہم بھی
تنہا تو نہیں گزرا تنہائی کا عالم بھی
چھلکا ہے کہیں شیشہ ڈھلکا ہے کہیں آنسو
گلشن کی ہواؤں میں نغمہ بھی ہے ماتم بھی
ہر دل کو لبھاتا ہے غم تیری محبت کا
تیری ہی طرح ظالم دلکش ہے تِرا غم بھی
انکارِ محبت کو توہین سمجھتے ہیں
اظہارِ محبت پر ہو جاتے ہیں برہم بھی
تم رک کے نہیں ملتے ہم جھک کے نہیں ملتے
معلوم یہ ہوتا ہے کچھ تم بھی ہو کچھ ہم بھی
پائی نہ شمیؔم اپنے ساقی کی نظر یکساں
ہر آن بدلتا ہے مے خانے کا موسم بھی

شمیم کرہانی

No comments:

Post a Comment