اگر ہم خوبصورت تھے
( نذرِ احمد شمیم)
ہمارے لب اگر گیتوں کی اک تجسیم کرتے تھے
ہماری بات میں رقصاں اگر شوخی، شرارت تھی
ہماری ذات کے اندر اگر کوئی حرارت تھی
اگر ہم چاہتوں کی اس طرح تفہیم کرتے تھے
کہ خوشبو بانٹتے تھے، روشنی تقسیم کرتے تھے
اگر یوں تھا
تو پھر یہ رائیگانی کے اندھیرے کیوں اتر آئے
ہمارے لفظ کیوں معدوم سارے ہو گئے آخر
ہمیں کوئی ستارہ رہ دکھانے کیوں نہیں آیا
ہمارے چار سُو کیوں بے یقینی ہے
فضا سے، وقت سے، ماحول سے یہ پوچھتے ہیں اب
کہ ہم کس کی ضرورت تھے؟
اگر ہم خوبصورت تھے؟
ازہر ندیم
No comments:
Post a Comment