Wednesday, 16 December 2020

اگر تم گیت ہوتے تو فضا میں نغمگی ہوتی

 اگر تم گیت ہوتے تو


اگر تم گیت ہوتے تو

فضا میں نغمگی ہوتی

زمیں پر تازگی ہوتی

یہ جنگل رقص میں ہوتا

پرندے وجد میں آتے

شجر مسحور ہو جاتے

اگر تم گیت ہوتے تو

میں اپنی روح کے اندر

تمہارے سُر سجا لیتا

مری سانسوں میں تم بستے

مرا اندر مہک جاتا

لہو کی تال پر اکثر

میں تم کو گنگنا لیتا

اگر تم گیت ہوتے تو

مرے ہونٹوں پہ تم رہتے


ازہر ندیم

No comments:

Post a Comment