اگر تم گیت ہوتے تو
اگر تم گیت ہوتے تو
فضا میں نغمگی ہوتی
زمیں پر تازگی ہوتی
یہ جنگل رقص میں ہوتا
پرندے وجد میں آتے
شجر مسحور ہو جاتے
اگر تم گیت ہوتے تو
میں اپنی روح کے اندر
تمہارے سُر سجا لیتا
مری سانسوں میں تم بستے
مرا اندر مہک جاتا
لہو کی تال پر اکثر
میں تم کو گنگنا لیتا
اگر تم گیت ہوتے تو
مرے ہونٹوں پہ تم رہتے
ازہر ندیم
No comments:
Post a Comment