محال ٹھہرا ہے شاخ دل کو نہال رکھنا
بہار رت کے گلاب سارے سنبھال رکھنا
دلِ حزیں کو کسی عطا کی طلب نہیں تو
یہ رنج کیسے، نظر میں کیسا ملال رکھنا
نہ مہر و الفت نہ کوئی وعدہ مگر وہ میرا
تمہارا لہجہ تمہاری باتیں سنبھال رکھنا
فراقِ شب کی فراغتوں میں تمہیں بھلانا؟
نہیں ہے ممکن کوئی بھی ایسا کمال رکھنا
شاہین کاظمی
No comments:
Post a Comment