Friday, 22 October 2021

نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی

 نیت اگر خراب ہوئی ہے حضور کی

گھڑ لو کوئی کہانی ہمارے قصور کی

کیوں دل کی آگ لے نہ خبر دور دور کی

کوندی ہے ہر دماغ میں بجلی فتور کی

ہر ظلم پر کیا ہے زمانے سے احتجاج

کچھ بھی نہ بن پڑا تو مذمت ضرور کی

تعمیر کا تو وقت ہے تخریب کا جنوں

اب بھی ہے آدمی کو ضرورت شعور کی

اے شامِ غم کی گہری خموشی تجھے سلام

کانوں میں ایک آئی ہے آواز دور کی

ہوش اڑ گئے تو ہوش حقیقت کا آ گیا

موسیٰ کی بے حسی میں تجلی تھی نور کی

کہتا ہے انقلابِ زمانہ جسے فلک

اک دنیا منتظر ہے اسی کے ظہور کی


فلک دہلوی

No comments:

Post a Comment