Friday, 22 October 2021

کھینچ لائے گی کوئی مصرعۂ تر آخر کار

 کھینچ لائے گی کوئی مصرعۂ تر آخر کار

زلف زنجیر سے نازک ہے مگر آخر کار

ہر دوراہے پہ کوئی یار بچھڑ جانا ہے

کون ادا کرتا ہے تاوانِ سفر آخر کار

کون خورشید کو پلٹائے کہ جنگل سے ادھر

مورنی جھاڑ گئی جھیل میں پر آخر کار

اڑ کے دیوارِ شفق سے یہ پرند مہتاب

جانے کیا جھانکنے آیا مِرے گھر آخر کار

اور جہاں ختم ہوا ہے من و سلویٰ کا نزول

کام آیا ہے مِرا رزقِ ہنر آخر کار

شام تک ایک بھی چہرہ نہ رکا میرے لیے

بند ہونے لگا بازارِ نظر آخر کار

کچھ سیہ پوش چراغوں کا بھلا کیا مذکور

اژدھے کھا گئے مہتابِ نگر آخر کار


طالب حسین طالب

No comments:

Post a Comment