Monday, 29 April 2024

کہ آخری کشکول اس کا آخری سکہ ہمارا

کہ آخری کشکول اس کا، آخری سکہ ہمارا

اک طلب پر جان دے دی بس یہی قصہ ہمارا

شام ہوتے ہی اسی دیوار و در میں لوٹتے ہیں

گھر جسے کہتی ہے وحشت ہے وہی صحرا ہمارا

ایک دریا کی ہوس میں دور تک گرداب لایا

کوئی ساحل پانیوں پر بھی کبھی بہتا ہمارا

عشق کی بندش سے ہم آزاد ہو کر جینے والے

یہ تعلق مشترک ہے کیا کہیں اس کا ہمارا

ہاں وہی بازار صورت، اک نظر بیگانگی کی

آئینے میں ہم نے دیکھا ایک سایا تھا ہمارا

آؤ اب واپس چلیں، دن چھپ گیا جنگل کے پیچھے

کس سے پوچھو گے کہاں پر قافلا چھوٹا ہمارا

آدھے آفس میں ہیں ہم، آدھے سے کم مشقِ سخن میں

خود کو کب ملتا ہے اے آزاد! اب حصہ ہمارا


سہیل آزاد

No comments:

Post a Comment