ایسے ہنگاموں میں اب لُطفِ سحر دیکھے گا کون
رات پاگل ہو گئی رقصِ شرر دیکھے گا کون
زرد موسم کا وہی آسیب ہے چاروں طرف
میں نقیبِ سبز موسم ہوں مگر دیکھے گا کون
ہو رہی ہے ہر طرف برسات سنگ و خشت کی
لاکھ نازک ہو مزاجِ شیشہ گر دیکھے گا کون
ہر طرف ہے نامُرادی اور محرومی کی بات
اب خزاں کی آگ میں جلتا شجر دیکھے گا کون
جھیلتا ہر شخص ہے جب خُود پرستی کا عذاب
میرے دل میں اُتر کر میرا گھر دیکھے گا کون
سب کے سب گُم کردۂ حکمت ہیں اپنے طور پر
پُوچھتی ہے زندگی حُسنِ بشر دیکھے گا کون
لمحہ لمحہ گِن رہا ہوں موت کے بستر پہ میں
زندگی اختر ہے کتنی مُختصر دیکھے گا کون
اختر عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment