Saturday, 21 November 2020

کہ میں تو ہوں ہی گنہگار یہ پتہ ہے مجھے

 کہ میں تو ہوں ہی گنہ گار یہ پتہ ہے مجھے

یہ میری ماں کی دعاؤں کا آسرا ہے مجھے

کوئی تو ہو جو پریشاں ہو میرے بارے میں

کسی سے میں بھی کہوں کچھ نہیں ہوا ہے مجھے

میں ایک وقت اسے دیکھنا سکھاتا تھا

وہ ایک شخص جو آنکھیں دِکھا رہا ہے مجھے

جو کہہ رہا ہے مری شکل تک نہ دیکھے گا

میں جانتا ہوں کہ وہ اب بھی چاہتا ہے مجھے

کوئی نہیں تھا ترا، میں نے ترس کھایا تھا

یہ طعنہ دے کے زمیں میں اتارتا ہے مجھے


عمر حسنین

No comments:

Post a Comment