یہ تم سے کس نے کہا جابجا تلاش کرو
کسی غریب کے دل میں خدا تلاش کرو
ہوا میں کس لیے کچی اڑان بھرتے ہو
زمیں پہ اپنے لیے راستہ تلاش کرو
یہ ہم نے مانا حقیقت شناس ہو لیکن
جو ہو سکے تو کوئی آئینہ تلاش کرو
جو میرے گھر کے چراغوں میں روشنی بھر دے
فضائے دہر میں ایسی ہوا تلاش کرو
فقیہ شہر جو فتووں پہ سود لیتا ہے
کوئی تو اس کے لیے بھی سزا تلاش کرو
مِری انا کو مرا جرم جاننے والو
مِرے گریز میں میری وفا تلاش کرو
نہیں یہ عشق اگر کوئی معجزہ عابد
تو جاؤ تم بھی کہیں معجزہ تلاش کرو
عابد بنوی
خوش رہیں
ReplyDelete