Wednesday, 13 July 2022

میں جانتا ہوں عدو سے بھی پیار واجب ہے

 میں جانتا ہوں عدو سے بھی پیار واجب ہے

ملن کے وقت بھی کچھ انتظار واجب ہے

ہمیشہ جیت کے رہنا کوئی کمال نہیں

کبھی کبھی تو حقیقت میں ہار واجب ہے

اے حسن سادہ یہ نکتہ مجھے تو سمجھا دے

کہ ذوقِ چشم میں کتنا وقار واجب ہے

ابھی نہیں ہے مجھے حوصلہ جدائی کا

یہ جانتا ہوں تِرا انتظار واجب ہے

کوئی پئے، نہ پئے، میکشوں کا شیوہ ہے

ہو جام ہاتھ میں تو پھر خمار واجب ہے

عجیب عشق کا مسلک ہے دوستو جس میں

کسی پہ کرب، کسی پر قرار واجب ہے

برا ہے کیا جو خودی اپنی بیچ دی ہم نے

کہ مفلسی میں تو ہر کاروبار واجب ہے

تمہارے بس میں اگر ہو تو عشق مکروہ ہے

ہمارے بس میں اگر ہو تو یار واجب ہے

خزاں بہار پہ واجب ہے ہم نے مان لیا

مگر بہار پہ کیا اختیار واجب ہے

یہ غم نہ ہوں تو کرے کون قدر خوشیوں کی

کہ گل کے پہلو میں اے دوست خار واجب ہے

یہ بات سچ ہے کہ جذبات کی تجارت میں

کسی بھی نقد سے پہلے ادھار واجب ہے

جہاں فریب ہو عابد خلوص کا باعث

وہاں فریب پہ بھی اعتبار واجب ہے


عابد بنوی

No comments:

Post a Comment