میں جانتا ہوں عدو سے بھی پیار واجب ہے
ملن کے وقت بھی کچھ انتظار واجب ہے
ہمیشہ جیت کے رہنا کوئی کمال نہیں
کبھی کبھی تو حقیقت میں ہار واجب ہے
اے حسن سادہ یہ نکتہ مجھے تو سمجھا دے
کہ ذوقِ چشم میں کتنا وقار واجب ہے
ابھی نہیں ہے مجھے حوصلہ جدائی کا
یہ جانتا ہوں تِرا انتظار واجب ہے
کوئی پئے، نہ پئے، میکشوں کا شیوہ ہے
ہو جام ہاتھ میں تو پھر خمار واجب ہے
عجیب عشق کا مسلک ہے دوستو جس میں
کسی پہ کرب، کسی پر قرار واجب ہے
برا ہے کیا جو خودی اپنی بیچ دی ہم نے
کہ مفلسی میں تو ہر کاروبار واجب ہے
تمہارے بس میں اگر ہو تو عشق مکروہ ہے
ہمارے بس میں اگر ہو تو یار واجب ہے
خزاں بہار پہ واجب ہے ہم نے مان لیا
مگر بہار پہ کیا اختیار واجب ہے
یہ غم نہ ہوں تو کرے کون قدر خوشیوں کی
کہ گل کے پہلو میں اے دوست خار واجب ہے
یہ بات سچ ہے کہ جذبات کی تجارت میں
کسی بھی نقد سے پہلے ادھار واجب ہے
جہاں فریب ہو عابد خلوص کا باعث
وہاں فریب پہ بھی اعتبار واجب ہے
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment