پھر نئے درد کو تم میرے مقابل نہ کرو
میری آنکھوں میں کسی خواب کو داخل نہ کرو
حد سے بڑھ آؤ مگر جان وفا یہ سن لو
مجھ کو اپنا لو، مِری ذات کو حاصل نہ کرو
تن، بدن اپنا میں شیشے میں تو ڈالوں لیکن
میرے ہمزاد! مجھے قتل پہ مائل نہ کرو
اے مِری عمر! مرے ساتھ جو چاہو کر لو
بس مِرے دکھ میں کسی اور کو شامل نہ کرو
مجھ میں ضم ہو کے رہو تم یہ گوارہ ہے مگر
کم سے کم مجھ کو مِری ذات سے غافل نہ کرو
اے مِرے شوق جنوں! اپنی ضرورت کے لیے
میرے احساس کو تم میرے مقابل نہ کرو
جس سہولت سے مجھے دل سے اتارا تُو نے
اس سہولت کو مِرے واسطے مشکل نہ کرو
مجھ کو تم ہجر کی وحشت سے ڈراتے کیوں ہو
میرے ناصح! مِرے ایمان کو زائل نہ کرو
قافلے والو! الگ ہے مِری منزل تم سے
کارواں اپنا مِری راہ میں حائل نہ کرو
بے بسی ایسی اذیت ہے کہ جس پر عابد
دوست تو دوست ہے، دشمن کو بھی مائل نہ کرو
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment